”رات کو ایک بار پڑھ کر سوئیں صبح اٹھ کر دیکھیں اتنا بڑا معجزہ ہوگا بستر کے نیچے دولت ملے گی“

 

اللہ تعالیٰ کی جلالت و عظمت کاحق یہی ہے کہ اس کی ناراضگی سے انسان ڈرتارہے، او راللہ کاخوف و خشیت دل میں پیدا کرنے کے لیے اس کی قدرت وعظمت کاخیال دل میں جمایاجائے، اسی کے ساتھ بروں کے انجامِ بد کو سوچا جائے، نیز قرآن وحدیث میں نافرمانوں کے لے جن عذابوں کی وعیدیں آئی ہیں اُن کا تصور کیاجائے۔ اہل اللہ کے دل میں کس قدر خوفِ خدا تھا؟

 

اس کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ شیخ سعدیؒ نے ’’گلستاں‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک سال حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ حج کے لیے گئے، تو لوگوں نے دیکھا کہ حرمِ کعبہ میں کنکریوں پر پیشانی رکھ کر دعامیںکہہ رہے تھے: ’’اے اللہ! مجھے بخش دے، اور اگر میں سزاکامستحق ہوں تو قیامت میں مجھے اندھا اٹھانا، تاکہ نیکوں کے روبرو شرمسار نہ ہونا پڑے۔جب اتنے بڑے ولی اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرتے تھے تو ہمیں کتنا ڈرناچاہیے

 

جب کہ ارشادِ ربانی بھی ہے: وَاللّٰہُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشٰہُ (الأحزاب : ۳۷)اللہ تعالیٰ زیاد ہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ او رجو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ان کے متعلق قرآن پاک میں فرمایا: وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِيَ الْمَأْوٰی (النازعات :۴۰-۴۱) یعنی جو شخص دنیا میں اپنے رب کے سامنے کھڑاہونے سے حقیقی معنی میں ڈرا ہوگا۔ اور نفس کو حرام خواہش سے روکاہوگا

 

تو جنت اس کا اصلی ٹھکانا ہوگا۔اور گ ناہ سے وہی بچے گاجس کے دل میںاللہ تعالیٰ کاخوف ہوگا، کہ خوفِ الٰہی اجتنابِ معاصی کاذریعہ ہے، اب جس میں جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا وہ اتنا ہی گ ناہ سے بچے گا۔ایک واقعہ : امام غزالیؒ نے ’’مکاشفۃ القلوب‘‘ میں ایک واقعہ نقل فرمایاہے کہ’’ ایک نوجوان کسی عورت کی محبت میں مبتلا ہوگیا، ایک مرتبہ وہ عورت کسی قافلہ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئی، نوجوان کو جب معلوم ہوا تو وہ بھی اس عورت کی طلب میں ساتھ چل پڑا

 

رات کے وقت جب قافلہ کسی منزل پر پہنچا اور قافلہ والے فارغ ہو کر سو گئے، تب نوجوان چپکے سے عورت کے پاس گیا اور محبت کا اظہار کرنے لگا، عورت نے کہا: ’’جاکر دیکھو! قافلہ میں کوئی جاگ تو نہیں رہاہے‘‘ نوجوان نے فرطِ مسرت میں قافلہ کاچکر لگایا اور واپس آکر کہنے لگا: ’’سب غافل سوئے پڑے ہیں‘‘ تو عورت نے کہا:’’اللہ میاں بھی ؟ ‘‘ بولا :’’نہیں، وہ تو کبھی نہیں سوتا‘‘ عورت کہنے لگی: ’’لوگ سو گئے تو کیا ہوا

 

اللہ تعالیٰ تو جاگ رہاہے، لوگ نہیں دیکھتے ،اللہ تعالیٰ تو دیکھتاہے، لہٰذا اس سے ڈرنا ہمارافرض ہے‘‘ پس نوجوان خ وفِ الٰہی سے لرزہ براندام ہوگیا اورگ ناہ سے باز آگیا، کہتے ہیں کہ اس کے کچھ وقت کے بعدنوجوان کا انت قال ہوگیا، بعد میں کسی نے خواب میں پوچھا کہ’’ کیامعاملہ ہوا؟‘‘ تو کہنے لگا: ’’اس دن خوفِ الٰہی کی وجہ سے گ ناہ سے باز رہا، تو اللہ تعالیٰ نے میرے سارے گ ناہ معاف کردیے۔دنیا اور آخرت کی تمام کامیابی کی راز نماز کی پابندی ہے

 

وضائف سے آپ سوفیصد نتیجہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ جب آپ سوفیصد نمازی ہونگے تب یہ وظائف کام کریں گے ۔ جب آپ نماز ادا کرتے ہیں عمل کرتے ہیں رب کریم سے دعا مانگے اور پورے یقین کیساتھ بڑی سے بڑی چیز مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو عطاء فرمادینگے ۔ جیسے حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے ہر چیز پر بادشاہی کی درخواست کی تھی ۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر چیز پر بادشاہی عطاء کی اس عمل کو جب آپ کریں گے تو گھر کے افراد آپس میں پیار محبت سے زندگی گزاریں گے محتاجی تنگدستی غربت گھر سے ہمیشہ کیلئے دور ہوجائیگی ۔

 

آپ لوگوں کو دولت کی پریشانی نہیں آئیگی ۔ پیارے آقاﷺ کا ارشاد مفہوم ہے جو شخص زیادہ سے زیادہ استغفار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام پریشانیوں کو آسانی سے تبدیل فرمائے گا ۔ اپنے گھر میں استغفار کو کثرت سے پڑھا کریں گے ۔ یہ ایسا ذکر ہے جس کے کرنے سے خود ہی دولت آپ کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں کیونکہ استغفار گ نا ا ہ و ں کو دھو دیتا ہے گھر میں رزق اور دولت آنا شروع ہوجاتی ہے جو تسبیح کا عمل بتانے جارہے ہیں

 

صرف ایک بار یہ تسبیح رات کوپڑھ کر سونا آپ کے گھر میں بڑا معجزہ ہوگا ۔ تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر ہر ایک دانے پر یارزاقُ یا رحمٰن یا رحیم یا سلامُ ایک تصور کرکے پڑھیں اسی طرح تسبیح کے سارے دانوں پر اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک پڑھیں اول وآخر درود پاک پڑھیں انشاء اللہ آپ کی تمام حاجتیں پوری ہوجائینگی ۔

Comments are closed.